اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

0
3354

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے ۔ ادبی زبان کسی بھی ملک کی تہذیبی ،ثقافتی ،معاشرتی،اور سماجی اقدار کی عکاسی کرتی ہے اور آپس میں ابلاغ کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔

زبان کسی بھی قوم میں رابطہ اور یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ ہماری ادبی زبان اردو ہے جو ایک لشکری زبان ہے جس      میں مختلف زبانوں کے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں۔

ویسے تو ہندستان میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں ہندی،بنگالی، گجراتی، مراٹھی ، پنجابی جیسی زبانیں قابل ذکر ہیں مگر ادبی زبان کی حیثیت سے اردو کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔

ہر ملک کی زبان اسکی شناخت ہے اسی طرح اردو ہماری شناخت ہے اور ہماری ثقافت کاحصّہ ہے ، مگر کافی عرصے سے و ہماری بد قسمتی سے اردو زبان زوال پزیری کا شکار ہو گئی ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ اب ہم انگریزی زبان یعنی انگلش کو اردو پر زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔

وہ زبان جس کی ترقی کے لئے “سر سید احمد خاں ” نے محنت کی، جس میں نغموں  کی مٹھاس ہے ، غالب اور فیض کی غزلوں کا ترنم ہے اس کی اہمیت کو اب فراموش  ، کیاجا رہاہے۔ “نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو آتی ہے اردو زبان آتے آتے” آج کی نو جوان نسل اردو نہ بولنے پر یہ نہ آنے پر فخر محسوس کرتی ہے اورانگلش بولنے کو ہی کامیابی اور تعلیم یافتہ ہونے کا راز سمجھتے ہوئے کہتی ہے ‘اف’ ہمیں تو اردو نہیں آتی زیادہ ،ہم تو انگلش بولنے اور لکھنے میں ہی کمفرٹیبل فیل کرتے ہیں ‘جب کہ بات باعث شرم ہے کہ اپنی ادبی زبان ہی نہ آتی ہو ۔

اس کے علاوہ اردو میں انگریزی کے الفاظ کی آمیزس کرنا تو جیسے فیشن بن گیا ہے۔ چاہے وہ غلط الفاظ ہی کیوں نہ بول رہے ہوں ہماری نئی نسل جو اردو بولتی ہے اسے ہم نہ اردو کہہ سکتے اور نہ ہی انگریزی ۔وہ تو بس اردو اور انگریزی کا مکسچر ہوتی ہے ویسے اس کی ایک وجہ ہمارا نظام بھی ہے جہاں انگریزی ہی کو اہلیت اور قابلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے ۔ دفتر اور تعلیمی اداروں میں بھی صرف انگریزی زبان کو ہی رائج کیا جاتا ہے اور انگریزی سکھانے اور بولنے پر توجہ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اردو زوال پزیری کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور اسے وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جسکی وہ مستحق ہے ۔

کہتے ہیں اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اسکی زبان کو تباہ کر دو ،وہ خد بہ خد ہی برباد ہو جائیگی ۔اردو ہماری شناخت ہے اور اگر اپنی شناخت ہی کھو دیںگے تو دنیا میں ہمارا کوئی مقام نہیں رہیگا ۔ یہاں مراد یہ نہیں کہ دوسری زبان نہیں سیکھنی چاہئیے۔ ضرور سیکھیئے ،ضرور بولیئے مگر اپنی مادری زبان کو بولنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے ۔ کیوں کہ یہ دنیا میں ہماری شناخت ہی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور ثقافتی کا اساسہ بھی ہے ۔

اسی کے ساتھ ایک اردو نظم جسے اقبال اشعر صاحب نے لکھا ہے۔

اردو ہے میرا نام میں ”خسرو“ کی پہیلی
میں ”میر“ کی ہمراز ہوں ”غالب“ کی سہیلی
دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا 
سودا“ کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا ہے”
میر“ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا”
میں ”داغ“ کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
اردو ہے میرا نام میں ”خسرو“ کی پہیلی 
غالب“ نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا”
حالی“ نے مرووت کا سبق یاد دلایا”
اقبال“ نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا”
مومن“ نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی” 
اردو ہے میرا نام میں ”خسرو“ کی پہیلی
ہے ”ذوق“ کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
چکبست“ کی الفت نے میرے خواب سنوارے”
فانی“ نے سجا? میری پلکوں پہ ستارے” 
اکبر“ نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی”
اردو ہے میرا نام میں ”خسرو“ کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here